مریم نواز کے عدالتی نوٹسں اورعظمیٰ بخاری کے چوہدری سالک حسین کے بارے میں بیان پر پاکستان مسلم لیگ (ق) کا شدید ردِعمل
کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ق) کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن محمد صادق شیخ نے پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز کا عدالتی نوٹسں کی باتیں اور وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر و وفاقی چوہدری سالک حسین کے جائز سیاسی مؤقف کا جواب دینے کے بجائے ذاتی نوعیت کے طنزیہ جملے اور غیر مناسب زبان استعمال کرنا سیاسی کم ظرفی اور عدم برداشت کا مظہر ہے۔ حکومتی ذمہ داران کو اختلافِ رائے کا جواب ذاتی حملوں سے نہیں بلکہ ٹھوس دلائل، مستند اعداد و شمار اور اپنی کارکردگی سے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین بے داغ کردار کے مالک، کرپشن سے پاک اور ایک قدآور سیاسی رہنما ہیں۔ انہیں قومی وسائل کے استعمال، ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم، سرکاری اخراجات اور انتظامی معاملات پر سوال اٹھانے کا مکمل آئینی اور جمہوری حق حاصل ہے۔ کسی حکومتی شخصیت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ تنقیدی آواز کو طنز و تضحیک کے ذریعے دبانے کی کوشش کرے۔
محمد صادق شیخ نے کہا کہ مریم نواز یاد رکھیں کہ یہ اقتدار ہے وہ قائد چوہدری شجاعت حسین نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر اپنی رہائشں پر پلیٹ میں رکھ دیا تھا۔ یاد رہے عزت دیں گے تو عزت رکھیں گے شیشے کے گھر میں بیٹ کر دوسروں ہر پتھر نہ برسائیں۔ گجرات میں بارہ ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا دعویٰ اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں پر کتنی شفافیت سے عمل درآمد ہوا، عوام کو ان کا کتنا فائدہ پہنچا اور ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں دیگر علاقوں کو کس حد تک ترجیح دی گئی؟ محض اربوں روپے کے اعلانات کردینے سے حکومتی کارکردگی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ عوام کو عملی نتائج دکھانا پڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری جہاز، سرکاری خزانے اور قومی وسائل کا استعمال کسی فرد یا خاندان کی ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ وسائل عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہوتے ہیں اور ان کے استعمال پر سوال اٹھانا ہر شہری اور عوامی نمائندے کا حق ہے۔ اگر سرکاری وسائل کے استعمال پر سوالات اٹھائے جائیں تو ان کا جواب وضاحت اور شفافیت سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ مخالفین کو نشانہ بنا کر۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کسی کی ذاتی جاگیر یا کسی کی تھالی نہیں کہ دوسروں کو اس میں سے حصہ مانگنے پر طعنے دیے جائیں۔ جمہوریت میں عوامی مینڈیٹ، آئین کی بالادستی اور سیاسی اختلاف کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وزیر اعلی مریم نواز و عظمیٰ بخاری کو چاہیے کہ وہ سیاسی برداشت کا مظاہرہ کریں اور ذاتی جملوں کے بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں۔ تکبر و انا کے خول سے باہر نکلیں اقتدار کبھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ ہم نے ہمیشہ اچھے کاموں کی تعریف کی مگر تھوڑا گلہ کیس تو برداشت نہیں ہوا۔ محمد صادق شیخ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کیا حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانا جرم بن چکا ہے؟ کیا عوامی وسائل کی تقسیم میں ناانصافی کی نشاندہی کرنا قابلِ اعتراض ہے؟ کیا عوامی نمائندوں سے سوال کرنے کا حق بھی چھین لیا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی کارکردگی پر متعدد سنجیدہ سوالات موجود ہیں جن کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چوہدری سالک حسین کے مؤقف کو ذاتی حملوں، طنز اور تمسخر سے دبایا نہیں جا سکتا۔ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے حقائق کا سامنا کیا جائے۔ عظمیٰ بخاری صاحبہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کو بیانات اور دعووں سے نہیں بلکہ عملی کارکردگی، شفاف طرزِ حکمرانی اور منصفانہ ترقیاتی اقدامات سے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ حکومت اپنی کارکردگی کا دفاع دلیل سے کرے، کیونکہ عوامی سوالات کا جواب دینا حکومت پر لازم ہے۔چوہدری سالک حسین پرتنقید سے عوامی مسائل دبائے نہیں جاسکتے ہیں۔ نئے صوبوں کی تجویز پر کسی کو چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کسی بھی محاذ آرائی کے بغیر بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب صوبے عوامی مطالبہ ہیں اور ضرورت ہے۔
