کراچی میں ٹریفک کا بحران سنگین، کیمروں کی نگرانی کے باوجود قوانین کی خلاف ورزیاں جاری
کراچی: شہر میں ٹریفک کا نظام روز بروز سنگین مسائل کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ اہم شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی، لین ڈسپلن کا فقدان، موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے فاسٹ لین کا استعمال اور ٹریفک پولیس کی مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث شہریوں کو بالخصوص دفتری اور اسکول کے اوقات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی کی متعدد مرکزی سڑکوں پر صبح کے اوقات میں دفاتر اور تعلیمی اداروں کی جانب جانے والی ٹریفک کے باعث طویل قطاریں لگ جاتی ہیں، جبکہ شام کے اوقات میں واپسی کے دوران بھی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ معمولی رکاوٹ یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی کئی مقامات پر بڑے ٹریفک جام کا سبب بن جاتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے جدید کیمروں کا نظام موجود ہونے کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں کمی دکھائی نہیں دے رہی۔ متعدد مقامات پر ڈرائیورز لین کی پابندی نہیں کرتے، جبکہ موٹر سائیکل سوار اکثر فاسٹ لین میں سفر کرتے نظر آتے ہیں، جس سے دیگر گاڑیوں کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
شہریوں کے مطابق بعض موٹر سائیکلوں پر نمبر پلیٹس بھی موجود نہیں ہوتیں یا واضح طور پر نظر نہیں آتیں، تاہم ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اور مسلسل کارروائی کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کیمروں کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی کی جا رہی ہے تو پھر قانون توڑنے والوں کے خلاف کارروائی بھی نظر آنی چاہیے۔
ٹریفک ماہرین اور شہری حلقوں کے مطابق صرف کیمروں کی تنصیب سے ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ نگرانی کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر مؤثر نفاذ، لین ڈسپلن، پارکنگ مینجمنٹ، سگنل مینجمنٹ اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔
موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے غلط لین استعمال کرنے کے علاوہ بعض مقامات پر ون وے کی خلاف ورزی، اچانک لین تبدیل کرنا، فٹ پاتھ یا سڑک کے کنارے سے گزرنا اور ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزی بھی شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کو صرف ٹریفک جام کے دوران سڑکوں پر موجود رہنے کے بجائے خلاف ورزیوں کی روک تھام اور ٹریفک کے منظم بہاؤ کے لیے مستقل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ بالخصوص اسکول اور دفتری اوقات میں اہم شاہراہوں پر اضافی نفری اور مؤثر ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔
کراچی میں ٹریفک انجینئرنگ اور مینجمنٹ سے متعلق اقدامات بھی شہریوں کے لیے سوال بنے ہوئے ہیں۔ اہم شاہراہوں، چوراہوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے مطابق ٹریفک نظام میں ضروری تبدیلیاں اور انجینئرنگ حل نظر نہ آنے کے باعث کئی سڑکوں پر برسوں سے جاری مسائل برقرار ہیں۔
شہریوں کے مطابق ٹریفک انجینئرنگ بیورو اور متعلقہ اداروں کو محض منصوبہ بندی یا نگرانی تک محدود رہنے کے بجائے ٹریفک کے مستقل مسائل کی نشاندہی، سائنسی بنیادوں پر ٹریفک اسٹڈیز، لین مینجمنٹ، سگنل ٹائمنگ اور سڑکوں کی گنجائش کے مطابق عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں کیمروں کے ذریعے ہونے والی نگرانی کو مؤثر نفاذ کے نظام سے منسلک کیا جائے، بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کے خلاف کارروائی کی جائے، لین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے اور دیگر قانونی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور دفتری و اسکول اوقات میں اہم شاہراہوں پر خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹریفک کا مسئلہ صرف گاڑیوں کی تعداد کا مسئلہ نہیں بلکہ ٹریفک قوانین کے نفاذ، سڑکوں کی بہتر انجینئرنگ اور مؤثر انتظامی منصوبہ بندی کا بھی معاملہ ہے۔ جب تک ان تینوں شعبوں میں مربوط اور عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، شہریوں کو روزانہ ٹریفک جام اور بے ہنگم ٹریفک کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔
