کراچی: مختلف میڈیکل تنظیموں کے نمائندوں نے سندھ بھر کے تمام بنیادی مراکز صحت (بی ایچ یوز) پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے حوالے کرنے کے حکومتی فیصلے کی ایک بار پھر شدید مخالفت کرتے ہوئے سندھ میں ’متوازی نظام صحت‘ قائم کرنے کے جواز پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
صحت کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں طبی عملہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کررہا ہے۔ طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ بی ایچ یوز کی پی پی ایچ آئی کو منتقلی سے ان کے روزگار اور ملازمتوں کو خطرات لاحق ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے نمائندے ڈاکٹر فرخ رؤف نے کہا کہ وہ اس اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور جلد اس معاملے پر پریس کانفرنس بھی کریں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی ایچ یوز پی پی ایچ آئی کے حوالے کرکے حکومت نے ڈاکٹروں کے لیے روزگار کے مواقع محدود کردیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹروں سمیت مختلف طبی عملے کے لیے منظور شدہ اسامیاں موجود ہیں اور صحت کے نظام کو نجی ادارے کے حوالے کرنا طبی شعبے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) سینٹر کے نمائندے ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی صوبے میں صحت کی سہولیات کو مؤثر انداز میں چلانے میں ناکام رہی ہے اور صوبائی و ضلعی سطح پر غیر طبی افراد کی نگرانی میں یہ نظام چلایا جارہا ہے۔
ڈاکٹر شورو کے مطابق بنیادی صحت عوامی نظام صحت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور طبقات کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے اہم فیصلے بیوروکریسی کی ہدایات کے ذریعے یکطرفہ طور پر نہیں کیے جانے چاہئیں بلکہ طبی قیادت اور نمائندہ تنظیموں سمیت تمام اہم اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم اے اس بات پر بھی سوال اٹھاتی ہے کہ موجودہ سرکاری صحت کے ڈھانچے کو نظرانداز کرکے عوامی اثاثے ایک نجی یا نیم خودمختار ادارے کو آؤٹ سورس کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
ڈاکٹر شورو نے کہا کہ عوام اور طبی برادری کو محکمہ صحت سے یہ پوچھنے کا حق ہے کہ پی پی ایچ آئی کی ایسی کون سی ٹھوس کامیابیاں اور قابلِ پیمائش نتائج سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر پورے بنیادی صحت کے نیٹ ورک کو اس کے حوالے کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی ایچ آئی سندھ تقریباً دو دہائیوں سے کام کررہی ہے اور صوبے بھر میں پہلے ہی سرکاری صحت کی تقریباً 1,400 سہولیات کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ ان کے بقول یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ اس عرصے کے دوران صوبے کے صحت کے اشاریوں میں کتنی بہتری آئی۔
محکمہ صحت نے گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران مرحلہ وار 1,400 بنیادی مراکز صحت پی پی ایچ آئی کے حوالے کیے تھے، جبکہ دو ماہ سے زائد عرصہ قبل باقی 700 سے زائد بنیادی مراکز صحت بھی پی پی ایچ آئی کو منتقل کردیے گئے۔
دوسری جانب محکمہ صحت کے ترجمان نے بی ایچ یوز کی نجکاری سے متعلق دعووں کو مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پی پی ایچ آئی پہلے ہی سندھ میں تقریباً 1,400 صحت مراکز کا انتظام سنبھال رہی ہے اور باقی بنیادی صحت کی سہولیات بھی اسے یکساں معیار کی خدمات یقینی بنانے کے لیے منتقل کی گئی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس انتظام کو نجکاری قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ترجمان نے بتایا کہ پی پی ایچ آئی کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت قائم ایک غیر منافع بخش کمپنی ہے، جس کی مکمل ملکیت اور مالی معاونت سندھ حکومت کے پاس ہے۔ ان کے مطابق پی پی ایچ آئی نہ تو نجی شعبے کا ادارہ ہے اور نہ ہی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کام کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کے اراکین، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تقرر حکومت کرتی ہے، جبکہ اس کی پالیسیوں، انتظامی ڈھانچے اور سرکاری فنڈز کے استعمال پر متعلقہ قوانین، ضوابط، آڈٹ اور احتساب کے تقاضے لاگو ہوتے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سیکشن 42 کے تحت کام کرنے سے پی پی ایچ آئی کو انتظامی اور آپریشنل معاملات میں زیادہ لچک حاصل ہوتی ہے، جس کے باعث وہ عملہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی کرنے اور صحت کی سہولیات کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے قابل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پی پی ایچ آئی کو سنگل لائن گرانٹس کے ذریعے فنڈز فراہم کرتی ہے، جبکہ یہ انتظام بروقت فیصلوں، ادارہ جاتی انتظام کو بہتر بنانے اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بی ایچ یوز کی پی پی ایچ آئی کو منتقلی سے ان مراکز میں کام کرنے والے ملازمین کی ملازمت، تنخواہوں یا موجودہ سروس حقوق پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کے باعث حکومت کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے بہتر نظام وضع کرنا پڑا۔
ترجمان نے کہا کہ اس انتظام کا مقصد صحت کی خدمات کے انتظام اور فراہمی کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ سرکاری ملازمین کے جائز حقوق اور مراعات میں کوئی تبدیلی کرنا۔
