کراچی: ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کا آغاز، 150 سے زائد ممالک کے فنکار 25 روزہ ثقافتی میلے میں شریک

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 کا شاندار آغاز ہوگیا۔ افتتاحی تقریب میں پاکستانی اور بین الاقوامی فنکاروں نے موسیقی کے مختلف رنگ پیش کیے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔

تقریب کے آغاز میں قومی ترانہ پیش کیا گیا، جس کے بعد صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام پر مبنی شاہ جو راگ نوجوان فنکاروں نے پیش کیا، جس نے محفل کو روحانی رنگ عطا کیا۔ اس کے بعد بین الاقوامی فنکاروں کے گروپ زندہ دلان نے دف کی دھنوں پر موسیقی پیش کی۔

پاکستانی لوک موسیقی کی نمائندگی کرتے ہوئے نثار بلوچ نے بانجو پر اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ جاپان کی فنکارہ جونا سیریتا نے باس گٹار پر دلکش دھنیں پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا، جبکہ خیبر پختونخوا کے بشارت بابر نے رباب کی خوبصورت دھنوں سے سماں باندھ دیا۔ تقریب کے اختتام پر شہزیب علی نے معروف ٹھمری ’یاد پیا کی آئے‘ پیش کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں پاکستان، سندھ اور خصوصاً کراچی میں دنیا بھر سے آئے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ فیسٹیول محض فنکارانہ صلاحیتوں کا جشن نہیں بلکہ مشترکہ انسانیت، ثقافتی تنوع اور ان آفاقی اقدار کا اظہار ہے جو مختلف ممالک، زبانوں اور تہذیبوں کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہزاروں سال قدیم ہے اور موئن جو دڑو چار ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا شہر ہے۔ وہاں ہونے والی کھدائی کے دوران کوئی ہتھیار نہیں ملا، جو اس سرزمین کے امن اور فنون سے وابستگی کی علامت ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست جیسے صوفی شعرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری محبت اور انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی تیزی سے مختلف ثقافتوں، روایات، خیالات اور تخلیقی اظہار کے بین الاقوامی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، جو پاکستان کے ثقافتی ورثے، مہمان نوازی اور دنیا کے لیے کھلے پن کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں تینوں ورلڈ کلچر فیسٹیولز کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے اور انہوں نے اس ثقافتی سرگرمی کو ایک منفرد تصور سے بین الاقوامی سطح کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق 150 سے زائد ممالک کے فنکاروں کی شرکت کراچی کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت اور ثقافتی تبادلے کے مرکز کے طور پر اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ایسے اقدامات کے ذریعے دنیا پاکستان کو خبروں اور پہلے سے قائم تصورات سے ہٹ کر دیکھ سکتی ہے اور یہاں کے لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں، ثقافتی ورثے اور مہمان نوازی سے روشناس ہو سکتی ہے۔

انہوں نے آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ کی قیادت اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں نے آرٹس کونسل کو بین الاقوامی اہمیت کا حامل ادارہ بنا دیا ہے۔ سندھ حکومت ورلڈ کلچر فیسٹیول اور آرٹس کونسل کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ فن اور ثقافت کا فروغ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کی فکری ترقی، اجتماعی شناخت اور آنے والی نسلوں پر طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ حکومت ثقافتی اداروں کی معاونت، نئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی، سندھ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بین الاقوامی اشتراک کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

اس سے قبل آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے فیسٹیول کے انعقاد میں تعاون کرنے والے مخیر حضرات، بین الاقوامی ثقافتی اداروں اور اپنی نوجوان ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے دوران آرٹس کونسل کے ساتھ تعاون کرنے والی غیر ملکی شخصیات اور دیگر نمایاں افراد میں اعزازی ایوارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔

واضح رہے کہ ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026 مجموعی طور پر 25 روز تک جاری رہے گا، جس میں دنیا بھر سے فنکار اور ثقافتی وفود اپنے فن اور ثقافتی روایات پیش کریں گے۔

متعلقہ خبریں