کراچی میں ٹریفک کا نظام بری طرح ناکام،شہری بدانتظامی، غلط ای چالان اور حادثات سے پریشان
کراچی: شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال بہتر بنانے کے دعوؤں کے باوجود مؤثر ٹریفک مینجمنٹ کا نظام قائم نہیں ہوسکا، جبکہ لین کی خلاف ورزیاں، غلط چالان، بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کی آمدورفت اور حادثات شہریوں کے لیے سنگین مسائل بنے ہوئے ہیں۔
کراچی ٹریفک پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کی کسی بھی بڑی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی اور قوانین پر عمل درآمد کی ایسی مثال دکھائی نہیں دیتی جسے مثالی قرار دیا جاسکے۔ تشہیری مہمات اور سخت کارروائی کے اعلانات کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک کی بے ترتیبی برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کو روزانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کے مطابق ٹریفک پولیس کی ذمہ داری صرف چالان جاری کرنا نہیں بلکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا، خطرناک ڈرائیونگ کی روک تھام اور سڑکوں کو محفوظ بنانا بھی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں ٹریفک قوانین کے نفاذ اور عملی انتظامات کے حوالے سے متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
شہریوں کی جانب سے غلط ٹریفک ای چالان کے نوٹس موصول ہونے کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ ان شکایات کے مطابق بعض افراد کو ایسے ای چالان موصول ہوتے ہیں جن کی صحت پر انہیں اعتراض ہوتا ہے، جس کے بعد انہیں وضاحت یا تصحیح کے لیے سہولت مراکز کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں غیرضروری دفتری کارروائیوں میں الجھانا ہونا چاہئے۔
اس کے علاوہ یہ شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ کارکردگی کے اعداد و شمار بڑھانے کے لیے چالانوں کی تعداد پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور بعض اوقات پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے چالان بھی کیے جاتے ہیں۔ ان شکایات کی شفاف تحقیقات اور چالان جاری کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینا ضروری ہے تاکہ قانون کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔
کراچی کی اہم شاہراہ فیصل پر بھی لین کی خلاف ورزیوں پر قابو پانے میں ناکامی ٹریفک مینجمنٹ کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ موٹر سائیکل سوار اکثر چلتی گاڑیوں کے درمیان سے راستہ بناتے، اچانک لین تبدیل کرتے اور کراسنگ کے مقامات پر بے احتیاطی سے گزرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرزِ ڈرائیونگ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے ساتھ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
شہر میں بغیر نمبر پلیٹ یا غیر واضح نمبر پلیٹ والی موٹر سائیکلوں کی آمدورفت بھی تشویش کا باعث ہے۔ نمبر پلیٹ نہ ہونے کی صورت میں گاڑی کی شناخت اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔ شہریوں کے مطابق موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹوں کی جانچ کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ بعض موٹر سائیکلیں موبائل فون چھیننے اور راہزنی جیسی وارداتوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں، اس لیے گاڑیوں کی شناخت کا مؤثر نظام امن و امان کے لیے بھی اہم ہے۔
ٹریفک کی بدانتظامی کراچی کے شہری تشخص کو بھی متاثر کررہی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز میں سڑکوں پر بے ترتیبی، قوانین کی خلاف ورزی اور غیر مؤثر انتظامات شہریوں کے لیے وقت کے ضیاع، ذہنی دباؤ اور حادثات کے خطرات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ایک جدید بین الاقوامی شہر کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ٹریفک نظام منظم، محفوظ اور شہریوں کی ضروریات کے مطابق ہو۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ کراچی ٹریفک پولیس محض اعلانات اور چالانوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، لین کی پابندی یقینی بنانے، غلط چالانوں کی اصلاح اور بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر توجہ دے۔ اس کے ساتھ ٹریفک سگنلز کی درست فعالیت، واضح لین مارکنگ، مناسب پارکنگ انتظامات اور اہم شاہراہوں پر اہلکاروں کی مؤثر تعیناتی بھی ضروری ہے۔
شہریوں کے مطابق کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ صرف قوانین کی خلاف ورزی تک محدود نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی اور مؤثر نگرانی کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کریں کہ شہر کی سڑکوں کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جارہی ہیں۔
