پاکستان میں میڈیکل ٹورازم کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کے حوالے سے مذاکرہ

کراچی: ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو بین الاقوامی مریضوں کے لیے طبی علاج کی منزل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے ویزا، انشورنس، طبی آلات اور ادائیگیوں سے متعلق پالیسیوں کو مربوط کیا جا رہا ہے، جبکہ مریض کے پورے سفر کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے کے لیے قومی پورٹل بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

یہ بات 23ویں ہیلتھ ایشیا انٹرنیشنل ایگزیبیشن اینڈ کانفرنسز کے دوران منعقدہ پینل ڈسکشن میں سامنے آئی۔ کانفرنس کا انعقاد ہیلتھ ایشیا نے پاکستان ہیلتھ ٹریول کونسل کے اشتراک سے کیا، جبکہ وزارت قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری نے اس کی معاونت کی۔

ڈاکٹر عیسیٰ ہیلتھ سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے نمائندے اور وفاقی وزارت بین الصوبائی رابطہ کاری کی جانب سے قائم نیشنل ہیلتھ ٹورازم ورکنگ گروپ کے رکن ڈاکٹر فرحان عیسیٰ عبداللہ نے کہا کہ پالیسی سازی کا دائرہ صرف پاکستان آنے والے مریضوں تک محدود نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مریضوں کے ساتھ ساتھ ان ڈاکٹروں کے لیے بھی ویزا پالیسی تیار کی جا رہی ہے جو اپنے ٹیکنیشنز کے ہمراہ پاکستان آکر علاج کرنا چاہتے ہیں، جبکہ پاکستان آنے میں دلچسپی رکھنے والی انشورنس کمپنیوں کے لیے بھی پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فرحان نے بتایا کہ مختلف اقدامات کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے ایک قومی پورٹل تیار کیا جا رہا ہے، جس میں ویزا، انشورنس اور دیگر متعلقہ سہولیات شامل ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی نظام پر بھی کام جاری ہے تاکہ بیرون ملک سے آنے والی رقم کے پاکستان میں داخل ہونے اور یہاں سے بیرون ملک منتقل ہونے کے طریقہ کار، بشمول ڈاکٹروں کی آمدن، کو منظم کیا جاسکے۔ ان کے مطابق وفاقی وزارت صحت اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے تعاون سے اس شعبے میں توقع سے زیادہ پیش رفت ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ میڈیکل ٹورازم کے فروغ کی بنیاد طبی خدمات کا معیار ہوگا۔

پینل کی صدارت پرائیویٹ ہسپتالز اینڈ کلینک سلوشنز کے صدر ڈاکٹر سید جنید علی شاہ نے کی، جبکہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال اینڈ ہیلتھ سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فرحت عباس اور ڈاکٹر عبداللہ نے شریک صدارت کی۔ سیشن کی میزبانی نووا کیئر ہسپتال اسلام آباد کے چیف ایگزیکٹو ہانس کیڈزیرسکی نے کی۔

اجلاس میں نیشنل ہیلتھ ٹورازم فنانشل، پیمنٹ اینڈ میڈیکل لائیبلٹی فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت بین الاقوامی مریضوں کے لیے چار بنیادی ضمانتیں تجویز کی گئی ہیں۔ ان میں ادائیگی کرنے والے ادارے کی واضح نشاندہی، علاج کی قیمت کی تفصیلی اور شفاف فہرست، صرف منظور شدہ ہسپتالوں میں علاج اور کسی ناخوشگوار صورتحال کی صورت میں انشورنس تحفظ شامل ہیں۔

شرکا کے مطابق خلیجی ممالک ہر سال بیرون ملک طبی علاج پر 15 ارب ڈالر سے زائد خرچ کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں مختلف طبی طریقہ کار کی لاگت دیگر تقابلی مارکیٹوں کے مقابلے میں 50 سے 70 فیصد تک کم ہے۔

مجوزہ فریم ورک میں خود اخراجات برداشت کرنے والے، انشورنس یافتہ اور اداروں کی جانب سے اسپانسر کیے گئے مریضوں کے لیے ادائیگی کے مختلف طریقہ کار شامل ہیں۔ اس کے تحت رقم ریگولیٹڈ ٹریٹمنٹ ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھی جائے گی اور مریض کے داخلے سے قبل ادائیگی کی معیاری ضمانت جاری کرنے کی تجویز ہے۔

فریم ورک میں انشورنس کلیمز کے تصفیے کے لیے 30 دن سے کم کی مدت، ہیلتھ ٹورازم سے حاصل ہونے والی غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مخصوص فارن ایکسچینج کوڈ اور بین الاقوامی مریضوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر عائد لیوی سے مریضوں کے تحفظ کے فنڈ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔

فریم ورک کا ہدف تیسرے سال تک پاکستان میں 50 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد اور ہسپتالوں، مہمان نوازی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں 10 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

اجلاس کے عمومی سیشن کی صدارت وزیراعظم کے صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد قیمخانی نے کی۔ سیشن سے ترکی ہیلتھ کیئر ٹریول کونسل اور گلوبل ہیلتھ کیئر ٹریول کونسل کے بانی چیئرمین ڈاکٹر ایمن چاکمک، یورپی ہیلتھ اینڈ میڈیکل ٹورازم ایسوسی ایشن کی سیکریٹری جنرل ماریہ افسر نظری، گلوبل میڈیکل ٹرسٹ ایڈوائزری کی ڈاکٹر وکٹوریہ چرکو اور ہیلتھی اِن ترکی کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر آیگن ینی گن نے بھی خطاب کیا۔

ہیلتھ ایشیا کے شریک بانی اور کنوینر ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے اختتامی خطاب کیا۔

متعلقہ خبریں