کراچی: کراچی میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار سست ہونے پر ماہرین اور سول سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقررین نے خبردار کیا کہ شہر شدید گرمی، شہری سیلاب، خشک سالی، ساحلی خطرات، فضائی آلودگی اور تیزی سے کم ہوتے سبز علاقوں جیسے متعدد موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
مقامی ہوٹل میں دی نالج فورم (TKF)، کراچی یونین آف جرنلسٹس (KUJ) اور لوکل گورنمنٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کراچی کے مشترکہ تعاون سے کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان کے حوالے سے میڈیا ڈائیلاگ منعقد ہوا، جس میں ماہرین، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب میں ماہرین کی جانب سے دو پریزنٹیشنز دی گئیں، جن میں کراچی کے کلائمیٹ ایکشن پلان اور شہر کو درپیش توانائی کے مسائل کا جائزہ پیش کیا گیا۔
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ کے اربن ریسرچ اینڈ ڈیزائن سیل سے وابستہ مسعود طارق نے کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان پر اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ کراچی کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ KCAP کے تحت کراچی کو 2050 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اعتبار سے کاربن نیوٹرل بنانے کی راہ متعین کی گئی ہے، جبکہ 2030 کے لیے بھی ایک اہم عبوری ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کا مقصد موجودہ اور مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے شہر کی استعداد بڑھانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ موسمیاتی اقدامات کے سماجی، ماحولیاتی اور معاشی فوائد شہریوں میں زیادہ منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں۔
مسعود طارق کے مطابق منصوبے کے اہداف کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور انہیں اپ ڈیٹ کرنا بھی ضروری ہے، جس کے لیے KCAP کے مجوزہ گورننس اسٹرکچر میں ڈائریکٹوریٹ آف انوائرمنٹ اینڈ کلائمیٹ چینج کا قیام تجویز کیا گیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے اقدامات نہ کیے گئے تو KCAP کے تحت کیے گئے تخمینوں کے مطابق کراچی کے اخراج میں 2040 تک تقریباً دوگنا اور 2050 تک تین گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ C40 نیٹ ورک کے رکن کی حیثیت سے کراچی سے 2050 تک کاربن نیوٹرل ہونے کی سمت پیش رفت کی توقع کی جاتی ہے۔
ماہر نے بتایا کہ شہر کے تعمیر شدہ رقبے میں تیزی سے اضافہ بھی کراچی کی موسمیاتی کمزوری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق 2013 سے 2023 کے دوران کراچی کا تعمیر شدہ رقبہ 270 مربع کلومیٹر سے بڑھ کر 538 مربع کلومیٹر ہوگیا۔
اسی عرصے میں گھاس اور جھاڑیوں پر مشتمل رقبے میں 45 فیصد، زرعی زمین میں 59 فیصد اور مینگرووز کے رقبے میں 23 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ان کے مطابق قدرتی علاقوں کے خاتمے سے کراچی میں شدید گرمی، شہری سیلاب اور دیگر موسمیاتی خطرات کے اثرات بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ KCAP میں موسمیاتی موافقت کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں مینگرووز کے تحفظ اور توسیع، نکاسی آب کے نظام میں بہتری، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے انتظامات اور قدرتی دریائی گزرگاہوں کی بحالی شامل ہیں۔
مسعود طارق نے کہا کہ منصوبے میں موسمیاتی خطرات میں کمی کے لیے شہری سبز علاقوں میں اضافہ، صنعتی شعبے میں توانائی کی کارکردگی بہتر بنانا اور ٹھوس فضلے و سیوریج سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی سمیت مختلف اقدامات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ سیوریج اور ٹھوس فضلے کا بہتر انتظام بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ کچرے کے ڈھیر اور بند نالے شدید بارشوں کے دوران شہری سیلاب کے خطرات میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔
دوسری پریزنٹیشن دی نالج فورم کے کلین انرجی ایکسپرٹ باسل اینڈریوز نے پیش کی، جس میں انہوں نے کراچی کے بدلتے ہوئے توانائی کے منظرنامے اور بجلی صارفین کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے بحران، بجلی کے بڑھتے نرخوں اور مسلسل لوڈشیڈنگ کے باعث ملک بھر میں گھروں اور دیگر عمارتوں کی چھتوں پر سولر پینلز کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر تقریباً 50 ہزار میگاواٹصلاحیت کے سولر پینلز درآمد ہوچکے ہیں، جن میں سے بیشتر چین سے آئے ہیں۔
باسل اینڈریوز نے اندازہ ظاہر کیا کہ صرف کراچی میں تقریباً 2,300 میگاواٹ سولر صلاحیت نصب ہوچکی ہے، جو شہر کے بجلی کے منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق بجلی کی بڑھتی قیمت اور لوڈشیڈنگ صارفین کو روف ٹاپ سولر کی جانب منتقل کرنے والے اہم عوامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں نصب سولر صلاحیت میں سے تقریباً 606 میگاواٹ کے الیکٹرک کے نظام میں نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شامل ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجیز بھی بتدریج سامنے آرہی ہیں، جو ملک کو صاف اور مقامی توانائی کے ذرائع کی جانب منتقل کرنے کے لیے مزید مواقع فراہم کرسکتی ہیں۔
تاہم باسل اینڈریوز نے خبردار کیا کہ کراچی کی توانائی منتقلی کے فوائد ابھی تک چھوٹے صارفین اور کمزور طبقات تک مناسب طور پر نہیں پہنچ رہے۔ انہوں نے کہا کہ نسبتاً کم لاگت کے باعث کے الیکٹرک قومی گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
ان کے مطابق مالی سال 2020 سے 2025 کے دوران قومی گرڈ سے کے الیکٹرک کی بجلی کی درآمد 5,764 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر 10,234 گیگا واٹ آور ہوگئی، جبکہ کے الیکٹرک کی اپنی بجلی کی پیداوار 10,185 گیگا واٹ آور سے کم ہوکر 6,433 گیگا واٹ آور رہ گئی۔
انہوں نے اگست 2026 میں جاری ہونے والے نیپرا کے ایک حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے کمرشل نقصانات، چوری اور عدم ادائیگی کو باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کے لیے لوڈشیڈنگ کی عمومی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سستی بجلی کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ شہریوں کو شہر میں بڑھتے ہوئے شدید موسمی واقعات سے نمٹنے میں تحفظ مل سکے۔ انہوں نے بجلی چوری کے خلاف ہدفی کارروائی، بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری، کمیونٹی اور اپارٹمنٹ کی سطح پر سولر سلوشنز، توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی اور صارفین کے لیے زیادہ انتخاب کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا۔
باسل اینڈریوز نے کہا کہ کراچی کو بجلی کی قلت کے محض انتظام سے آگے بڑھ کر صارفین کو سستی، قابل اعتماد اور سب کے لیے قابل رسائی بجلی فراہم کرنے کی طرف جانا ہوگا۔
مذاکرے کے دوران صحافیوں نے مقررین سے KCAP پر عملدرآمد، موسمیاتی خطرات، شہری منصوبہ بندی، توانائی کی منتقلی اور شہری اداروں کے کردار سمیت مختلف امور پر سوالات کیے۔
مقررین اور صحافیوں نے کراچی کے ماحولیاتی اور موسمیاتی مسائل کو اجاگر کرنے اور کلائمیٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پیش رفت سے شہریوں کو باخبر رکھنے کے لیے سول سوسائٹی اور میڈیا کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، شہری اداروں، محققین اور لوکل گورنمنٹ کے معاملات رپورٹ کرنے والے صحافیوں کے درمیان قریبی رابطہ کراچی کی موسمیاتی حکمت عملی پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ضروری ہے۔
دی نالج فورم کی ڈائریکٹر زینیا شوکت نے کہا کہ کراچی کو متعدد باہم جڑے ہوئے مسائل کا سامنا ہے اور کنکریٹ کے ڈھانچوں میں تیزی سے اضافے اور قدرتی علاقوں کے خاتمے کے باعث شہر کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے کراچی پر اثرات کو اپنی رپورٹنگ میں زیادہ اہمیت دیں اور شہر کے رہائشیوں کو درپیش ماحولیاتی مسائل کو باقاعدگی سے اجاگر کریں۔
