ادب سے فلم اور ٹی وی تک کہانیوں کی منتقلی کے چیلنجز پر گفتگو
کراچی: انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر (IVS) میں چوتھے IVS فلم فیسٹیول (IVSFF2026) کا آغاز جمعہ کو ایک دلچسپ پینل ڈسکشن سے ہوا، جس میں تحریری ادب سے فلم اور ٹیلی ویژن کی اسکرین تک کہانیوں کی منتقلی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
’How Stories Travel: From Literature to Film‘ کے عنوان سے ہونے والی نشست میں معروف اداکارہ ثانیہ سعید، مصنفہ فرحت اشتیاق، ہدایت کار و اداکار محمد احتشام الدین اور ماہر تعلیم و صحافی کرسٹی میری لاؤڈر نے شرکت کی، جبکہ گفتگو کی میزبانی ایمن قریشی نے کی۔
پینل میں ادب کو فلم اور ٹیلی ویژن میں ڈھالنے کے تخلیقی، ثقافتی اور عملی چیلنجز کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کہانی بیان کرنے کے عمل کو متاثر کرنے والی پابندیوں اور امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔
ثانیہ سعید نے اداکاری میں ادب کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی زندگی میں پڑھی جانے والی کتابوں، جن میں جنگ، بچپن اور انسانی جدوجہد سے متعلق متعدد تراجم شامل تھے، نے ان کے فن اور لوگوں کو سمجھنے کے انداز پر گہرا اثر ڈالا۔
فلم ’منٹو‘ میں صفیہ کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھیں کہ وہ ایک حقیقی خاتون کا کردار ادا کررہی ہیں جن کی بیٹیاں اس وقت بھی حیات تھیں۔ ان کے مطابق بالآخر انہیں صفیہ کا کردار ان ’چھپی ہوئی عورتوں‘ میں نظر آیا جنہیں انہوں نے اپنی زندگی میں مختلف صورتوں میں دیکھا تھا۔
ثانیہ سعید نے کہا کہ ادب ناظرین اور قارئین کو اپنی تخیل کے ذریعے ایک دنیا میں داخل ہونے کا موقع دیتا ہے، جبکہ اسکرین پر کہانی میں کرداروں اور ان کی اداکاری کو زیادہ اہمیت حاصل ہوجاتی ہے۔
مصنفہ فرحت اشتیاق نے ادب کو ٹیلی ویژن کے لیے ڈھالنے کو مشکل فیصلوں کا عمل قرار دیا۔ ان کے مطابق ناول نگار الفاظ اور دنیا کی تشکیل کے ذریعے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرسکتے ہیں، لیکن ٹیلی ویژن میں کردار کہانی کے مرکز میں آجاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے ادبی تخلیق کی اسکرین کے لیے تشکیل نو میں مصنفین کو بعض سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں اور ناظرین کے جذبات اور توقعات کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔
گفتگو کے دوران پاکستان میں تخلیقی آزادی اور سنسرشپ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
محمد احتشام الدین نے حساس موضوعات پر کہانیاں بیان کرنے کی کوشش کرنے والے فلم سازوں کو درپیش پابندیوں پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم ساز اکثر گھر اور خاندان تک محدود کہانیوں کی طرف چلے جاتے ہیں کیونکہ مذہب اور سیاست جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلم سازوں کو ان کہانیوں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جنہیں وہ ضروری سمجھتے ہیں۔
کرسٹی میری لاؤڈر نے سنسرشپ کو تعلیمی نقطہ نظر سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں زیر بحث آنے والے موضوعات پر پابندیاں طلبہ کی دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کے لیے زیادہ وسیع نمائندگی اور مختلف خیالات سے آگاہی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ اپنی تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو بہتر طور پر تشکیل دے سکیں۔
پینل کا اختتام پاکستانی کہانی کاروں کی نئی نسل پر زور دیتے ہوئے ہوا کہ وہ ملک کے حقیقی حالات کو دریافت کریں اور مقامی زندگی سے جڑی مستند کہانیاں بیان کریں۔
افتتاحی نشست نے ایسے فلم فیسٹیول کے لیے بنیاد فراہم کی جو سیکھنے، تجربات اور پاکستانی کہانی بیان کرنے کے مستقبل پر مرکوز ہے۔ ایک پریس ریلیز کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران IVSFF2026 میں پاکستان بھر سے ابھرنے والے فلم سازوں کی 33 مختصر فلمیںپیش کی جائیں گی، جبکہ فلم اور میڈیا کی صنعت سے وابستہ اہم شخصیات کے ساتھ ورکشاپس اور گفتگو کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
