پیٹرول پمپ مالکان کا ڈبہ اسٹیشنز کے خاتمے، سرکاری محکموں کی مبینہ ہراسانی اور پی ایس او ڈپوز کی بندش پر اظہارِ تشویش
کراچی: آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی اور صوبائی عہدیداران کا اہم اجلاس 18 اکتوبر کو منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کے پیٹرول پمپ مالکان کو درپیش مسائل، کاروباری مشکلات اور ایندھن کی فراہمی سے متعلق چیلنجز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں غیر قانونی ڈبہ اسٹیشنز کے خاتمے، سرکاری محکموں کی جانب سے مبینہ بلاجواز کارروائیوں اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے مختلف ڈپوز کی بندش سے متعلق اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ڈبہ اسٹیشنز کے نام پر غیر قانونی اور غیر معیاری ایندھن کی فروخت کا فوری نوٹس لیا جائے اور اس غیر قانونی کاروبار کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ عہدیداران کا کہنا تھا کہ ایسے اسٹیشنز نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن رہے ہیں بلکہ قانونی تقاضے پورے کرکے کاروبار کرنے والے پیٹرول پمپ مالکان کو بھی مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اجلاس میں مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے پیٹرول پمپس پر مبینہ بلاجواز چھاپوں، غیر ضروری کارروائیوں اور انتظامی پیچیدگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور پیٹرول پمپ مالکان کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ قانونی کاروبار کرنے والوں کو بلاجواز ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور نگرانی کے عمل کو شفاف اور قانون کے مطابق بنایا جائے۔
پاکستان اسٹیٹ آئل کے مختلف ڈپوز کو بند کرنے یا ختم کرنے کی اطلاعات اور اقدامات بھی اجلاس کا اہم موضوع رہے۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈپوز کی بندش سے ایندھن کی ترسیل اور سپلائی چین متاثر ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف علاقوں میں پیٹرول پمپس کو ایندھن کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہونے اور پورے شعبے میں بحران جنم لینے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی اور صوبائی عہدیداران سلطان محمد شیرانی، اختر نواز خان، حاجی جالم خان محسود، بابا پیٹرولیم شنواری، سلیم خان، ملک خان زمان، ملک فدا خان آفریدی، نوید خان، سلمان خان آفریدی، عمردراز خان وزیر، لال بہادر، شبیر شنواری اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ پیٹرول پمپ مالکان کو درپیش مسائل کا فوری نوٹس لے کر ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو ایسوسی ایشن آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے اور اس کا اعلان کرنے پر مجبور ہوگی۔
اجلاس کے بعد ملک فدا خان آفریدی اور سلمان خان آفریدی کی جانب سے شرکاء کے لیے پرتکلف افغانی کھانے کا اہتمام کیا گیا۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی مہمان نوازی کو سراہا۔
