پی ٹی آئی کا سندھ حکومت پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورۂ سندھ میں رکاوٹیں ڈالنے کا الزام

کراچی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ پانچ روزہ دورۂ سندھ کے دوران پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال کیا۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے پارٹی رہنما راجہ اظہر کے ہمراہ انصاف ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 6 ستمبر کو کراچی کو ’سیل‘ کیا گیا، پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ خواتین کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ کو بھی ہراساں کیا گیا۔

راجہ اظہر نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے کے دوران 250 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور پولیس اسٹیشنز میں تشدد اور ہراسانی کے واقعات پیش آئے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مبینہ کریک ڈاؤن اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سندھ حکومت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورے کے دوران عوامی ردعمل سے پریشان تھی۔ ان کے مطابق پانچ روزہ دورے نے پارٹی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کو ظاہر کیا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ کی سرحد سے کراچی تک وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا استقبال پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے ’واضح پیغام‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں میں عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے نعرے لگائے گئے، جبکہ نواب شاہ، عمرکوٹ، میرپورخاص اور حیدرآباد میں بڑی تعداد میں لوگوں نے استقبال کیا۔

انہوں نے عمرکوٹ میں پی ٹی آئی کی اقلیتی ونگ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کیے گئے اجتماع کو ’تاریخی‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سندھ حکومت اس عوامی ردعمل سے ’بوکھلا گئی‘ اور وفد کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔

حلیم عادل شیخ کے مطابق میرپورخاص کے قریب خندقیں کھودی گئیں، ٹنڈو اللہیار کے قریب ٹرک کھڑے کیے گئے اور وفد کے راستے میں خلل ڈالنے کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے گئے۔

پی ٹی آئی رہنما نے سندھ کی معاشی اور سماجی صورتحال پر بھی سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں تقریباً 100 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 116 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود صارفین سے 110 روپے فی لیٹر سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے 11 ماہ کے دوران آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو 2.935 ٹریلین روپے کی ادائیگی، جس میں 1.565 ٹریلین روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس شامل ہیں، پر بھی سوال اٹھایا اور صارفین پر بڑھتے بوجھ کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔

حلیم عادل شیخ نے تھرپارکر میں بچوں کی مبینہ اموات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ ماہ مٹھی میں زیر علاج 61 بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ مٹھی تھرپارکر اسپتال میں آٹھ ماہ کے دوران 315 اموات ریکارڈ کی گئیں۔

انہوں نے سندھ حکومت کو ’ناکافی طبی سہولیات اور خراب ریورس اوسموسس پلانٹس‘ پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ صورتحال حکومت کے ترقیاتی دعووں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ سیاسی کارکنوں کے بجائے بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ’پرامن سیاسی جدوجہد‘ عمران خان کی رہائی تک جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں