جماعتِ اسلامی کا بلدیاتی قانون میں ترامیم کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

کراچی: جماعتِ اسلامی نے سندھ اسمبلی کی جانب سے بلدیاتی قانون میں حالیہ ترامیم کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، جن کے تحت میئرز اور چیئرمینز اپنی مدت ختم ہونے کے بعد نئے منتخب سربراہان کے عہدہ سنبھالنے تک بطور ایڈمنسٹریٹر اختیارات استعمال کر سکیں گے۔ 

جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر، سٹی کونسل میں قائدِ حزبِ اختلاف ایڈووکیٹ سیف الدین اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر تیمور احمد نے سندھ کے چیف سیکریٹری، محکمہ بلدیات کے سیکریٹری اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بناتے ہوئے درخواست دائر کی۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ بلدیاتی نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کریں۔

درخواست میں کہا گیا کہ سندھ اسمبلی نے 14 ستمبر کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 (ترمیمی) بل منظور کیا، جس کے تحت بلدیاتی ادارے کی مدت ختم ہونے کے بعد سبکدوش ہونے والا میئر یا چیئرمین نئے منتخب سربراہ کے عہدہ سنبھالنے تک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر اختیارات اور فرائض انجام دیتا رہے گا۔ 

جے آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ترمیم آئینی اور قانونی طور پر قابلِ اعتراض ہے کیونکہ منتخب نمائندے کی آئینی و قانونی مدت ختم ہونے کے باوجود اسے تقریباً وہی اختیارات نئے عہدے کے نام سے استعمال کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق ایسی صورتحال آئین کے آرٹیکل 218(3) سے بھی متصادم ہے، جو انتخابات کے ایماندارانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد اور انتخابی بدعنوانیوں کی روک تھام کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سبکدوش میئر یا چیئرمین کو انتخابات کے دوران بلدیاتی مشینری، وسائل، ملازمین، ترقیاتی منصوبوں اور مالی انتظام پر اثرانداز ہونے کا موقع مل سکتا ہے، جس سے انتخابی عمل میں مساوی مواقع متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ اگر انتخابات میں تاخیر، حلقہ بندیوں کے تنازعات یا دیگر قانونی رکاوٹیں پیدا ہوں تو سبکدوش میئر یا چیئرمین چار سالہ مقررہ مدت سے کئی ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک ایڈمنسٹریٹر کے طور پر برقرار رہ سکتا ہے۔

درخواست گزاروں نے سندھ ہائیکورٹ سے استدعا کی کہ متنازع ترامیم کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان پر عمل درآمد معطل کیا جائے، سبکدوش میئرز اور چیئرمینز کو مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرنے سے روکا جائے اور قانون کے تحت مقررہ مدت میں نئے بلدیاتی انتخابات کرانے کو یقینی بنایا جائے۔ 

متعلقہ خبریں